Mersiya

حضرت امام حسین  علیہ اسلام   کی آخری رخصت

                                                     (سيّد شعیب حسن عابدی – بھيّا) 

 

حسین کر چکے آصغر کے جنازے کو دفن
زمینِ گرم نےدیکھی نہ کبھی ایسی چبن
جگرفگار تھے۔ رنجیدہ تھے اور تشنہ دہن
مگر وہ یادِ الٰھی کہ ہدستورمگن

جو ساتھ چھوٹا تھا رن میں جوان بھائی کا
عجیب حال تھا بس شاہِ کربلا ئی کا

بنا کے بیٹھے ہی تھے قبر علی اصغر کی
ملا پیام تو پھر یاد آ ئی دختر کی
دکھا کے لاش سب اپنے عزیز و یاور کی
خبر دی قاصدِ صغریٰ کو یَعنی محشر کی

کہاں تھی طاقت گویا بتاتے اکبر کو
فقط پیغام دیا روچکے ہیں گھر بھر کو

صدا امام نے خیمے کے در سے دی زینب
تڑپ کے خیمے سے باہر نکل پڑیں زینب
کہا یہ شہ نے کہ، بھائی نثار اے زینب
رہو نہ اب میری اتِنی بھی منتظر زینب

بچا نہ کوئی بھی اس راہ میں لٹانے کو
بس ہم بھی جاتے ہیں اب اپنا سر کٹا نے کو

یہ بات سنتے ہی زینب کا عجب حال ہوا
بغیر بھائی کے رہنے کا جو خیال ہوا
انھیں تو سانس بھی لینا عجب محال ہوا
بھائی کے چہرے کو دیکھا جو خون سے لال ہوا

لپٹ کے بہن نے جو بھائی کا گلا چوما
اخی نے بہن کے بازو کو جابجا چوما

زینب یہ روکے پکاریں میرے ما جائے حسین
ہر طرف شور مچا ہائے حسین ہائے حسین
اسی کہرام میں عابد کے قریب آے حسین
جو بھی اسرار امامت تھے ، بجا لائے حسین

پوچھا سجاد نے بابا میرا بھائی ہے کہاں
اسنے برچھی کی انی سینے پہ کھا ئی ہے کہاں

شہ نے پھر بالی سکینہ سے کہا آجاؤ
میں ہوں قربان کے اک بار گلے لگ جاؤ
بہت گھبرانا نہیں پھر نہ مجھے گر پاؤ
گڑکیاں ہوں گی مقتدر میں جب جدھر جاؤ

جو ہوں والد سے جدا وہ یتیم ہوتے ہیں
اور جو صبر کریں وہ عظیم ہوتے ہیں

روکے یہ با لی سکینہ کے کہا رک جاؤ
میرے امو کو بھی دریا سے ذرا بلواؤ
مجھے معلوم ہے جانا ہے ،ابھی مت جاؤ
بعد کیسے میں رھوں آپکے یہ سمجا ؤ

حسین لیٹ گئے تپتی ہوئی ریتی پر
عجیب حال تھا اس جانثار بیٹی پر

وہ گھڑی آیکے اب شہ نے اجازت چاہی
بس اسی آن میں گویا کے قیامت آئی
دختر فاطمہ چلائی کے میرا بھائی
نثار کر دیے بچے ، نہ بچ سکا بھائی

حسین نے کہا سلام جا نثاروں پر
خدا کا قہر بنے لشکر ہزاروں پر

یہ وہ شھید ہیں جنکی مثال کوئی نہیں
کہ ایسی طاقت و صبر و کمال کوئی نہیں
علی کی بزم میں بھی ہو یہ حال ،کوئی نہیں
فقط جواب ہے گر ہو سوال ، کوئی نہیں

شهید ہو گئے جو شاہِ کربلا کیلئے
خدا نے خلق کی جنت اِسی جزا کیلئے

لو خاک اڑتی ہے وہ شاہ کربلا نلکلے
وہ کرنے وعدہ طفلی کو ہیں وفا نکلے
رسول پاک سر برہنہ ننگ پاء نکلے
لگے جوان کی میت بصد بکّا نکلے

سورج بھی آپکی نصرت کیلئے آنے لگا
مقتل کرب و بللا حشر نظر آنے لگا

قریبِ خیمہ شہداہ پہ جو نگاہ ڈالی
اٹھی اک ہوک، کہ اکبر نے تو سناہ کھا لی
عباس نے لیبِ دریا ہی پے جگہ پالی
چار دن بھی بننے قا سم کی نہ دیکھی لالی

میرے شجاع میری آنکھوں کے چین سوتے ہیں
خدا حافظ کے اب رخصت حسین ہوتے ہیں


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *